احسن اقبال کی گرفتاری، نیب نے اختیار سے تجاوز کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ

Jung

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس معاملے میں احسن اقبال کی ضمانت سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا، تحریری فیصلے میں دوسرا نام جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کا ہے۔

عدالت عالیہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں احسن اقبال کی گرفتاری کو قومی احتساب بیورو (نیب) کا اختیار سے تجاوز پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ نیب احسن اقبال پر کرپشن کے الزام کا ثبوت اور منصوبے میں مالی فائدہ لینے کے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ تسلیم شدہ بات ہے منصوبہ ناروال کے عوام کے استعمال اور فائدے کے لیے شروع کیا گیا، جس کی منظوری سی ڈی ڈبلیو پی جیسے مختلف مجاز فورم نے دی۔

تفصیلی تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نہ ریکارڈ پر نہ ہی نیب نے الزام لگایا کہ پٹیشنر نے کوئی مالی فائدہ اٹھایا، نیب پراسیکیوٹر جنرل کرپشن سے متعلق مواد عدالت کو پیش نہ کرسکے۔

عدالت عالیہ نے فیصلے میں کہا کہ 1999 کے آرڈیننس کے تحت ملزم کی گرفتاری کا اختیار بغیر سوچ بچار استعمال نہیں ہوسکتا، کسی ملزم کو آئین کے تحت اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ گرفتاری کا اختیار منصفانہ، برابری اور بغیر امتیاز کے استعمال کیا جائے، اختیارات کے غلط استعمال کے محض الزامات پر ملزم کو آزادی سے محروم کرنا جواز نہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ریکارڈ سے پتا چلتا ہے پٹیشنر رضاکارانہ طور پر تفتیشی افسر سے تعاون کررہے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ کیس ابھی انکوائری کے مرحلے میں ہے، اسے انویسٹی گیشن میں تبدیل نہیں کیا گیا، انکوائری کے موجودہ مرحلے میں پٹیشنر کا معصوم ہونا سمجھا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پٹیشنر منتخب نمائندہ ہے اور پارلیمنٹ سے نااہل نہیں ہے۔

یاد رہے کہ احسن اقبال کی ناروال اسپورٹس سٹی کمپلکس کیس میں ضمانت 25 فروری2020 کو ہوئی تھی۔

Comments are closed.