جسٹس فائز عیسیٰ نظرثانی کیس، ہوسکتا ہے دوبارہ اپیل فائل نہ کریں، فروغ نسیم

Jung

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر قانون بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ہےکہ ہمیں محسوس ہوا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس میں چھ ججوں کا فیصلہ درست نہیں ہے، ہم نے ایف بی آر کی رپورٹ تو نہیں دیکھی لیکن ایف بی آر کا اسسیسمنٹ آرڈر ضرور دیکھا ہے، ایسی پیشرفت بھی ہوسکتی ہے کہ ہم دوبارہ اپیل فائل نہ کریں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اعتراضات دور کر کے اسے فائل کردیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔فروغ نسیم نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو ساڑھے 6بلین کا ایوارڈ ہمارے سر پر تھا، وزیراعظم نے ریکوڈک کے معاملہ پر میری سربراہی میں قانونی ٹیم بنائی، پاکستان نے اس پر اپیلیں دائر کیں لیکن ساتھ ہی دنیا میں انفورسمنٹ پروسیڈنگز شروع ہوگئیں، برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالتوں میں ایک انفورسمنٹ پروسیڈنگز شروع ہوئی، وہاں سے پی آئی اے کے اثاثے روزویلٹ ہوٹل نیویارک اور اسکرائب ہوٹل پیرس کو فریز کردیا گیا ، پاکستان کا عدالت میں اسٹینڈ تھا کہ روز ویلٹ ہوٹل اور اسکرائب ہوٹل پاکستان کی نہیں پی آئی اے کی ملکیت ہے، پاکستان پر ایوارڈ ہے تو پی آئی اے کے اثاثے فریز نہیں کیے جاسکتے، عدالت نے ہمارے موقف کو تسلیم کیااور ہماری فتح ہوئی۔ فرو غ نسیم کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے دن سے soverign immunity کا موقف اختیار کیا ہوا ہے، پاکستان ایک خودمختار ملک ہے جب تک وہ خود کسی دوسرے ملک میں دائرہ اختیار تسلیم نہ کرے تب تک غیرملکی عدالتیں اس دائرہ اختیار کو ایکسرسائز نہیں کرسکتی ہیں، اس موقف پر میں نے خود وکلاء کو گائیڈ لائنز دیں، عدالت میں بھی ہمارے دلائل کو تسلیم کیا گیا۔

Comments are closed.