ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ: تحریک انصاف کے وزرا کا پاکستان سے متعلق ڈیٹا پرانا ہونے کا دعویٰ، ادارے کی تردید

BBC News Urdu

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ بدعنوانی سے متعلق اس کی جاری کردہ رپورٹ کے لیے استعمال کیا گیا ڈیٹا پرانا نہیں ہے۔

یاد رہے کہ بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی میں چار پوائنٹ کی تنزلی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے اجرا کے بعد پاکستانی حکومت کے بعض وزرا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ڈیٹا پرانا ہے اور پچھلی حکومتوں کے ادوار کا احاطہ کرتا ہے، تاہم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بی بی سی کے ساتھ ای میل کے تبادلے میں اس کی تردید کی ہے۔

جمعرات کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) برائے سال 2020 میں پاکستان کو 180 ممالک میں 124 ویں درجے پر رکھا گیا ہے۔

اس کے ساتھ پاکستان کا سکور بھی 100 میں سے گذشتہ برس کے 32 کے مقابلے کم ہو کر 31 ہوگیا ہے۔

گذشتہ سال جاری ہونے والی 2019 کی رپورٹ میں 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان کی درجہ بندی 120 تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی رابطہ کاری شہباز گل نے ٹوئٹر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس رپورٹ کے لیے استعمال ہونے والا ڈیٹا گذشتہ حکومتوں کے ادوار یعنی 2017، 2018 اور 2019 میں شائع ہوا اور اس سے بھی پہلے جمع کیا گیا۔

اُنھوں نے رپورٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹس کے ایک سلسلے میں اپوزیشن کے سیاسی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف دو اداروں کی ریٹنگ کی وجہ سے پاکستان کے سکور میں تنزلی کی گئی۔

اس کے علاوہ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی اُمور بابر اعوان بھی جمعرات کی شام اپنی ایک پریس کانفرنس میں یہی دعویٰ کرتے نظر آئے۔

مگر حکومت کا یہ دعویٰ کتنا درست ہے؟

شہباز گل نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک پرانی رپورٹ کے سکرین شاٹس اپنے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے جن کے ذریعے انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ کے لیے پرانا ڈیٹا استعمال کیا۔

ٹرانسپیرنسی

تاہم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے رپورٹ کی تیاری میں جس دور کا ڈیٹا استعمال کیا ہے اس دور میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت برسرِ اقتدار تھی۔

رپورٹ کے ساتھ جاری کی گئی فائلز میں ادارے نے ایسی رپورٹ کی تیاری کے طریقہ کار کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ طریقہ کار کی فائل کے ابتدائیے میں لکھا ہے کہ: سی پی آئی 2020 کا حساب 12 مختلف اداروں کے 13 مختلف ڈیٹا سیٹس کی مدد سے لگایا گیا جو گذشتہ دو برسوں میں بدعنوانی کے تاثر کا احاطہ کرتے ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا مؤقف

دوسری جانب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے شہباز گِل کے شیئر کردہ سکرین شاٹس کے بارے میں کہا ہے کہ اس ٹویٹ کے ساتھ منسلک سکرین شاٹس بظاہر سی پی آئی کے ایک پچھلے ایڈیشن کے ساتھ منسلک سورس ڈسکرپشن دستاویز سے لیے گئے ہیں۔

بی بی سی کی ایک ای میل کے جواب میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے بین الاقوامی دفتر نے مطلع کیا کہ 2020 کی رپورٹ کی تیاری میں 13 اداروں کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے جو 2018 سے لے کر 2020 تک کا ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے ساتھ متعلقہ فائلز کے مطابق 13 میں سے آٹھ اداروں کا ڈیٹا پاکستان میں بدعنوانی کے تاثر کو مرتب کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ادارے کے مطابق 2018 کا ڈیٹا صرف افریقی ترقیاتی بینک کے کنٹری پالیسی اینڈ انسٹیٹیوشنل اسسمنٹ کا ہے۔ ادارے کی جاری کردہ دستاویز کے مطابق یہ ادارہ برِاعظم افریقہ کے ممالک کا تجزیہ کرتا ہے۔

استعمال کیا گیا باقی تمام ڈیٹا 2019 اور 2020 کا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے گذشتہ سال ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جاری کی گئی رپورٹ پر بھی یہی دعویٰ کیا تھا کہ یہ رپورٹ گذشتہ ادوار میں ہونے والی بدعنوانی کو بیان کرتی ہے۔

سی پی آئی کی درجہ بندی کا مطلب کیا ہے؟

یاد رہے کہ عالمی تنظیم کی بدعنوانی کے تاثر کی فہرست میں نچلے درجوں پر موجودگی کا مطلب ملک میں بدعنوانی کے تاثر کا زیادہ ہونا اور سکور زیادہ ہونے کا مطلب ملک میں شفافیت کا تاثر زیادہ ہونا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق یہ رپورٹ کرپشن کے ‘تاثر’ پر اس لیے مبنی ہوتی ہے کیونکہ اب تک کوئی ایسا اشاریہ تیار نہیں کیا گیا ہے جو کرپشن کی بلاواسطہ پیمائش کر سکے، کیونکہ کرپشن عمومی طور پر غیر قانونی سرگرمیوں پر مبنی اور پوشیدہ ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ عالمی ادارے کی 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کا سکور 33 اور درجہ بندی 117 تھی اور یہ سکور اس سے پہلے کے دو برسوں سے ایک درجہ بہتر تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں تحریکِ انصاف کی حکومت اگست 2018 سے برسراقتدار ہے اور مسلسل ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار اور اس سلسلے میں دعوے کرتی رہی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک سے بدعنوان عناصر کا خاتمہ کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ان کے دور میں پاکستان میں احتساب کا قومی ادارہ نیب بھی سرگرم رہا ہے اور اس نے حزبِ اختلاف کے اہم رہنماؤں کے خلاف بدعنوانی اور کرپشن کے مقدمات قائم کیے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ 2020 کے انڈیکس میں شامل ممالک میں سے دو تہائی کا سکور 50 سے کم رہا جبکہ اوسط سکور 43 تھا۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ممالک میں بدعنوانی زیادہ دیکھنے میں آئی ہے جو کورونا کی وبا سمیت دیگر عالمی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بدعنوانی جنوبی سوڈان میں ہے جس کی رینکنگ 180 اور سکور 12 ہے جبکہ سب سے کم بدعنوان ملک ڈنمارک اور نیوزی لینڈ ہیں جن کا سکور 88 اور درجہ بندی ایک اور دو ہے۔

کرپشن

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں ماہرین اور کاروباری شخصیات کی نظر میں 180 ممالک کے سرکاری محکموں اور شعبہ جات میں بدعنوانی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کی تیاری کے لیے جو طریقۂ کار استعمال کیا گیا اس میں ان ممالک کو ایک سے 100 کے سکور دیے گئے جس میں ایک بدعنوان ترین اور 100 شفاف ترین ہے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ برسوں کی طرح ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ بہتری کے باوجود ان ممالک کی اکثریت سرکاری سطح پر کرپشن کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔

خطے کے دیگر ممالک میں انڈیا، ایران اور نیپال کا سکور ایک درجے جبکہ ملائیشیا کا دو درجے کم ہوا البتہ افغانستان کا سکور تین درجے اور ترکی کا ایک درجہ بہتر ہوا ہے۔

Source Link: https://www.bbc.com/urdu/pakistan-55841138.amp

Comments are closed.