ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم پر اعتراضات

Jung

اسلام آباد (مہتاب حیدر) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956میں مجوزہ ترامیم پر 26اعتراضات کئے ہیں جس کے مطابق قیمتوں میں استحکام لانے میں ناکامی پر اسٹیٹ بینک کے احتساب کو یقینی نہیں بنایا گیا ہے۔ بدھ کو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام لکھے گئے خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق اسٹیٹ بینک کو وسیع تر اختیارات دیئے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ یہ اختیارات آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے عجلت میں دیئے جارہے ہیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک ایکٹ کے تحت اس کا کردار مالی اور شرح مبادلہ کو ریگولیٹ کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کی حد تک ہے۔ ترمیم میں افراط زر کا کوئی ہدف نہیں دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مالی واجبات کی شق کا جہاں تک تعلق ہے ترکاری قرضوں کے حوالے سے بینک کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ چاہے یہ قرض آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک ہی سے کیوں نہ لئے گئے ہوں۔ ترمیم کی دفعہ 3-کے تحت اسٹیٹ بینک کو کسی کنٹریکٹ کو پورا کرنے کے لئے منقولہ یا غیرمنقولہ جائیداد کو قبضے میں لینے یا فروخت کرنے کا اختیار ہوگا۔ نئے بل کے تحت گورنر اسٹیٹ بینک ہی بورڈ آف ڈائریکٹرز کا سربراہ ہوگا۔ 1956کے قانون میں سیکرٹری فنانس کا بورڈ رکن ہونا لازمی تھا لیکن نئے بل میں اس کا استثنیٰ دیا گیا ہے بورڈ کو مالی اور برآمدی پالیسی مرتب کرنے کا اختیار ہوگا۔ گورنر اور ڈپٹی گورنر کی میعاد تین سال سے بڑھا کر 5سال کردی گئی ہے۔ تنخواہ اور مراعات بورڈ آف ڈائریکٹرز طے کرے گا۔ شق A-52(3)کے تحت نیب یا ایف آئی اے کو کسی قانونی کارروائی کا اختیار نہیں ہوگا۔ جس کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔

Comments are closed.