ٹرانسپیرنسی نے تربیلا 4؍ کے نقصان کا معاملہ وزیراعظم کو پیش کر دیا

Jung

اسلام آباد (انصار عباسی) ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے وزیراعظم آفس سے رابطہ کرکے درخواست کی ہے کہ چیئرمین واپڈا کی جانب سے تربیلا ڈیم کے ٹنل فور پروجیکٹ کو شروع کرنے سے قومی خزانے کو پہنچنے والے 753.7؍ ملین ڈالرز (تقریباً 100؍ ارب روپے) کے نقصان کے حوالے سے دی نیوز کی خبر کے مطابق جو انکوائری شروع ہوئی تھی اسے وزارت آبی وسائل (ایم او ڈبلیو آر) نے غلط انداز سے بند کر دیا ہے۔ بدھ کو جاری کردہ خط وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو لکھا گیا ہے جس میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ’’ہم ایم او ڈبلیو آر کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ وزیراعظم نے 8؍ مئی 2019ء کو انکوائری بند کرنے کا حکم دیا تھا، یہ واضح طور پر الزام اپنے سر سے ہٹانے کی کوشش ہے۔‘‘ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے ایم او ڈبلیو آر سے دی نیوز کی 2018ء اور 2019ء میں شائع ہونے والی خبروں کے حوالے سے وضاحت طلب کی تھی۔ ٹرانس پیرنسی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ وزارت نے موقف اختیار کیا ہے کہ انوسٹی گیشن کمیٹی (آئی سی) نے اپنی رپورٹ میں واضح الفاظ میں یہ کہا تھا کہ پروجیکٹ کا افتتاح کنٹریکٹ سے جڑی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔ لہٰذا، قبل از وقت افتتاح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ٹرانس پیرنسی نے تبصرہ کیا تھا کہ ایم او ڈبلیو آر کا بیان غلط ہے اور ساتھ ہی اس نمائندے کی خبر کا حوالہ پیش کیا جو دی نیوز میں 2؍ مارچ 2019ء کو شائع ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 6؍ رکنی انوسٹی گیشن کمیٹی نے بھی یہ بتایا ہے کہ یونٹس چلانے کیلئے پانی کا دستیاب معیار موجود نہیں تھا لہٰذا غیر موزوں حالات میں یونٹس کو چلایا جانا واپڈا، کنسلٹنٹس اور ٹھیکیداروں کا قبل از وقت اقدام تھا۔ ٹرانس پیرنسی کا کہنا تھا کہ دی نیوز کی خبر کی تصدیق انوسٹی گیشن کمیٹی کی رپورٹ کے پیرا نمبر 7.14؍ کو دیکھ کر ہو جاتی ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’مذکورہ بالا حالات کو دیکھتے ہوئے انوسٹی گیشن کمیٹی کی رائے ہے کہ پروجیکٹ کو تمام تر ضروری اقدامات کرنے سے قبل ہی فعال کر دیا گیا۔‘‘ ایم او ڈبلیو آر کی وضاحت کے مطابق انوسٹی گیشن کمیٹی وزیراعظم کے حکم پر تشکیل دی گئی تھی۔ وزارت کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کمیٹی کی رپورٹ منظور کرنے کی بجائے 8؍ مئی 2019ء کو ویسی کی ویسی ہی واپس بھجوا دی اور کوئی ہدایات جاری نہیں کیں اور وزارت کے مطابق اس کا تاثر یہ ملتا ہے کہ کیس بند کر دیا گیا۔ تاہم، ٹرانس پیرنسی کا اصرار ہے کہ ’’کیس بندش کا تاثر ملنے‘‘ کے حوالے سے وزارت کا بیان غلط ہے۔ ٹی آئی پی کا کہنا ہے کہ 2؍ مارچ 2019ء کو شائع ہونے والی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق انوسٹی گیشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ پایا ہے کہ پروجیکٹ چلانے کی وجہ سے مجموعی طور پر 753.7؍ ملین ڈالرز (تقریباً ایک سو ارب روپے) کا نقصان ہوا ہے۔ ٹی آئی پی کے مطابق، وزیراعظم کے پی ایس کی جانب سے 8؍ مئی 2019ء کو سیکریٹری ایم او ڈبلیو آر کو بھیجے گئے خط میں انوسٹی گیشن کمیٹی کی تربیلا فور ایچ پی پی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، یہ خط وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کے ڈی او کو بھی بھیجا گیا تھا۔ اس خط میں انوسٹی گیشن کمیٹی کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم وزیر برائے آبی وسائل کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ لہٰذا، انوسٹی گیشن کمیٹی کی رپورٹ واپس بھجوائی جا رہی ہے۔ تاہم، ٹی آئی پی کا کہنا ہے کہ انوسٹی گیشن رپورٹ ملنے کے دو دن بعد وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کے 24؍ فروری 2019ء کو لکھے گئے ڈی او خط میں وزیر نے وزیراعظم کو انوسٹی گیشن کمیٹی کے اصل انکشافات سے آگاہ نہیں کیا۔ ٹی آئی پی کی رائے ہے کہ وزیراعظم نے تحقیقات بند کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، انوسٹی گیشن کمیٹی کی رپورٹ سینئر ترین افسران نے تیار کرکے اس پر دستخط کیے تھے اور ایک شخص اسے مسترد نہیں کر سکتا چاہے وہ شخص وفاقی وزیر کے عہدے پر کیوں نہ بیٹھا ہو۔ ٹی آئی پی نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ٹی آئی پی کے تبصروں اور آراء کا جائزہ لیا جائے۔ دی نیوز نے جون 2019ء میں خبر دی تھی کہ حکومت نے واپڈا کے سینئر افسران کیخلاف کارروائی کیلئے سوچ تبدیل کر لی ہے اور وزیراعظم عمران خان نے انکوائری کا حکم دیا ہے، یہ افسران تربیلا پروجیکٹ کے ٹنل فور کو چلانے کے معاملے میں ایک سو ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے ذمہ ہیں۔ انکوائری رپورٹ وزیراعظم کو فروری 2019ء میں پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پروجیکٹ کا پرفارمنس آڈٹ کرایا جائے اور اس کے بعد معاملے کی فوجداری انکوائری نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے کرائی جائے لیکن بعد میں وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کی مداخلت پر رپورٹ دبا دی گئی۔ 2018ء میں وزیراعظم عمران خان نے دی نیوز کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا تھا۔ انوسٹی گیشن رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ، ’’’(ایم) پی، واپڈا کے مشیر برائے منصوبہ جات (ایڈوائزر پروجیکٹس)، سی ای (او اینڈ ایم) اور ٹنل فور ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (ٹی فور ایچ پی پی) کے پی ڈی کے بیانات سے طے ہوجاتا ہے کہ افتتاح کی تاریخ ان سب سے مشاورت کیے بغیر ہی مقرر کی گئی اور یہ کام بھی واپڈا کی مجاز سطح پر نہیں کیا گیا بلکہ چیئرمین واپڈا کی سطح پر کیا گیا تھا۔‘‘ پورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ٹنل فور تربیلا پروجیکٹ شروع کرنے کی وجہ سے مجموعی طور پر 753؍ ملین ڈالرز کا نقصان ہوا، اس نقصان میں وہ رقم بھی شامل ہے جو پروجیکٹ کا مارچ 2018ء میں قبل از وقت افتتاح کرانے کی وجہ سے سنگین مسائل کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ رابطہ کرنے پر چیئرمین واپڈا نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ حقائق پر مشتمل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افتتاح کی تاریخ کا فیصلہ سختی کے ساتھ ’’کمرشل کو آرڈی نیٹڈ شیڈول‘‘ کے تحت جون 2017ء میں مقرر کیا گیا تھا اور اسی بات پر تینوں اسٹیک ہولڈرز (آجر، کنسلٹنٹس اور ٹھیکے دار) میں اتفاق ہوا تھا۔ حقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ’’چیئرمین واپڈا اور واپڈا کے مشیر برائے پروجیکٹس کے موقف سے معلوم ہوتا ہے کہ پروجیکٹ کی تکمیل کی تاریخ منصوبے کو وقت کی مشکلات سے بچانے کیلئے مقرر کی گئی تھی اور یہ تاریخیں جولائی 2017ء میں طے کی گئیں تھیں اور اس کے علاوہ یونٹ 17؍ کی تکمیل 25؍ فروری 2018ء کو رکھی گئی۔ اس بات پر ذہن میں رکھتے ہوئے، یونٹ نمبر 17؍ کی فعالیت (آپریشن) کی تاریخ کنٹریکٹ میں شامل فریقین (آجر یعنی کہ واپڈا، کنسلٹنٹس یعنی کہ ٹی فور سی جے وی اور ٹھیکے دار یعنی کہ سول اور ای ایم کنٹریکٹرز) کے ساتھ مشاورتی عمل کے بعد مقرر کی جانا تھی۔ نتیجتاً یونٹ نمبر 17؍ کا افتتاح 10؍ مارچ 2018ء کو کیا گیا۔ مذکورہ بالا صورتحال کے باوجود، ایم (پی)، ایڈوائزر پروجیکٹس واپڈا، سی ای (او اینڈ ایم) اور ٹی فور ایچ پی پی کے پی ڈی کے بیانات سے یہ طے ہوتا ہے کہ افتتاح کی تاریخ ان کے ساتھ مشاورت کے بغیر مقرر کی گئی نہ کہ واپڈا کی مجاز سطح پر بلکہ یہ کام چیئرمین واپڈا کی سطح پر کیا گیا۔‘‘

Comments are closed.