پاکستان میں انکشافات اربوں کے ہوتے ہیں مگر ریکوری زیرو ہوتی ہے

Urdu Point

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 فروری2021ء) براڈ شیٹ جیسابڑا فراڈ پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ہوا جو کہ مشرف دور میں یا یوں کہیے کہ 2002میں ایک کمپنی بنی اس کے ساتھ معاہدہ ہواور 2003میں ختم ہو گیا مگر2008میں پھر سے بات چل پڑی اور اب 2018میں آکر پیسوں کی ادائیگی کرنے کا ایسا گھن چکر رچایا گیا کہ اتنی زیادہ حکومتیں بدلنے کے باوجود بھی اس میگا اسکینڈل کا کھرا کوئی نہیں پکڑ سکا اور اب پھر کاوے موسوی کے حالیہ بیان نے کہ شہزاد اکبر سے مجھے ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ نے ملوایاتھااور مجھ سے کمیشن بھی مانگا تھا کے چکر میں تو سارے پڑ گئے ہیں مگر اس طرف دھیان کوئی نہیں دے رہا کہ اس فراڈ میں ملک کا اربوں روپیہ ضائع ہو گیااور قوم کے ٹیکس کے پیسے کے ساتھ جس شخص نے بھی کھیل رچایا اس کو کٹہرے میں کیسے لایا جائے۔
یہ وہی بات ہو گئی کہ پاکستان میں انکشافات تو اربوں کے ہوتے ہیں مگر ریکوری ایک دھیلے کی بھی نہیں ہوتی۔عمران خان صاحب بھی حکومت میں آنے سے پہلے کہتے تھے کہ پاکستانی عوام کا کئی سو ارب ڈالر جو باہر ممالک میں پڑا ہے وہ ریکور کر کے واپس لے آئیں گے مگر عمران خان کے ساتھی اور کچھ عرصہ کے لیے ایف بی آر کے چیئرمین رہنے والے شبر زیدی ثاقب نثار کی عدالت میں کھڑے ہو کر کہہ گئے تھے کہ باہر گیا پیسا بھول جاؤ کیونکہ اگر وہ اگرکال دھن بھی تھا تو سفید کر کے باہر بھیجا گیااور پاکستانی حکومتوں نے انہیں سفید کر کے باہر بھیجا۔
لہٰذا اب براڈ شیٹ کے معاملے میں بھی قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اربوں روپے کی ادائیگی کی جو تحقیقات ہونی چاہئیں اس طرف حکومت توجہ ہی نہیں دے رہی بلکہ نان ایشوز میں قوم کو الجھایا جا رہا ہے تاکہ بات آہستہ آہستہ پرانی ہو اور پھر ختم ہو جائے اور اس کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن جائے کیونکہ اس کیس میں بھی ویسے ہی کچھ نہیں نکلنا جیسے اپوزیشن کے سیاستدانوں کے خلاف نیب نے کیسز بنائے انہیں جیل میں رکھااور بعدازاں ثبوت نہ ہونے کی بنا پر عدالت نے انہیں رہا کر دیا۔

Comments are closed.