پبلک ہیلتھ انجیئنرنگ ڈپارٹمنٹ میں کروڑوں کی خوردبرد، خط کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں، ذرائع ڈپارٹمنٹ

Jung

کراچی ( سہیل افضل) پبلک ہیلتھ انجیئنرنگ ڈپارٹمنٹ میں کروڑوں روپے کے گھپلے کا انکشاف ۔ ڈپارٹمنٹ نے صاف پانی کے مختلف منصوبوں کو چلانے کے لیے کسی ٹینڈر اور قانونی کارروائیوں کو پورا کئے بغیر من پسند اداروں کو کروڑوں روپے کے فنڈزجاری کردیئے۔ پبلک ہیلتھ انجیئنرنگ ڈپارٹمنٹ میں ہونے والی اس سنگین نوعیت کی بے قاعدگیوں اور مالی بدعنوانیوں کا انکشاف اس وقت ہوا جب چیف انجینئر سکندرعلی میمن نے اس حوالے سے ایک خط سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجیئنرنگ ڈپارٹمنٹ کو لکھا جس میں انہوں نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے پبلک ہیلتھ میں واٹرفلٹریشن پلانٹس چلانے کے نام پر کروڑوں روپے کے گھپلے کا انکشاف کیا۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ صرف میرپور خاص ڈویژن میں واٹرفلٹریشن پلانٹس چلانے کے لیے 28 کروڑ38 لاکھ روپے سے زائد کا فنڈز بغیر کسی ٹینڈر اور منظوری لیے جاری کئے گئے، پبلک ہیلتھ انجیئنرنگ ڈپارٹمنٹ ذرائع کا موقف ہے کہ چیف انجینئر سکندرعلی کے خط کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں ،یہ مکمل ہونے کے بعد درست صورتحال سامنے آئے گی ، دریں اثنا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی سندھ حکومت کو سنگین مالی بدعنوانیوں کے بارے میں پہلے ہی خبردار کردیا تھا ۔ ٹرانسپرنسی کی وائس چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ)ناصرہ اقبال نے حکومت سندھ کو پبلک ہیلتھ انجیئنرنگ ڈپارٹمنٹ میں ہونے والی بد عنوانیوں سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا تاہم اس بدعنوانیوں کو روکنے کے لیے کوئی اقدام تا حال نہیں کیا گیا۔

Comments are closed.