پروگرام کے بغیر سکوک،یورو بانڈز جاری نہ ہوسکیں گے، وزارت خزانہ IMF

Jung

اسلام آباد ( مہتاب حیدر )زر مبادلہ ذخائر میں گزشتہ 15 دنوں میں 50 کروڑ ڈاکرز کی کمی کے ساتھ وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام نے حکومتی ذمہ داران کو آگاہ کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالرز امدادی پروگرام کی بحالی کے بغیر یورو اور سکوک بانڈز کا احیا ممکن نہ ہو گایا پھر مہنگا ثابت ہو گا ۔ امدادی پروگرام کی بحالی کے لئے آئی ایم ایف سے وزارت خزانہ کے ورچوئل تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں ۔

متعلاقہ حکام کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر میں کمی کی رفتار رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں قرضوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑھ سکتی ہے ۔اسٹیٹ بینک کے تحت زرمبادلہ ذخائر کا حجم 12ارب15 کروڑ اور کمرشیل بینکوں کے پاس 7 ارب 19 کروڑ ڈالرز ہیں ۔

گزشتہ دو اکتوبر تک اسٹیٹ بینک نے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 58 کروڑ ڈالرز ادا کئے ۔آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے لئے اقتصادی اہداف پر نظر چانی کی ہے کیونکہ شرح نمو کا تناسب سرکاری 2.1 فیصد کے بر خلاف ایک فیصد ہو گیا ہے ۔

بیروزگاری کی شرح گزشتہ مالی سال کے 4.5 فیصد کے مقابلے میں 5.1 فیصد ہو سکتی ہے ۔وزارت خزانہ دو ارب ڈالرز مالیت کے سکوک اور یورو بانڈز کے رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں اجرا کے انتظامات کر رہی ہے ۔ حکومت نے مالی مشیروں کی تقرری کے لئے درخواستیں طلب کر لی ہیں ۔حکومت سمجھتی ہے کہ وہ آئندہ سال کے شروع میں اپنا کام مکمل کرلے گی ۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں بانڈز کے اجرا کے لئے مناسب وقت موجود ہے ۔ حکومت چینی مارکیٹ سے پاندا بانڈز کے اجرا کے لئے سرمایہ کاروں کو راغب کر رہی ہے ۔توقع ہے پہلے مرحلے میں 20 سے 50 کروڑ ڈالرز تک جمع کئے جائیںگے ۔تاہم سکوک اور یورو بانڈ کا اجرا آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

وزارت خزانہ میں ذرائع سے رابطہ کر نے پر ان کا موقف تھا کہ مذاکراتی عمل میں آئی ایم ایف سے اتفاق رائے کے بعد آئی ایم ایف اسٹاف دوسرے جائزے کے مکمل ہو نے کی درخواست دائر کرے گا تاکہ 45 کروڑ ڈالرز کی تیسری قسط جاری کرے گا ۔

آئی ایم ایف پروگرام کے احیا کے لئے اقتصادی محاذ پر متفقہ اہداف طے کرنے ہوں گے جو آسان کام نہیں ہوگا اور پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ اس پر عمل درآمد بھی ایک چیلنج ہو گا۔

Comments are closed.