پھر یہ ملک کیسے چلے گا؟

express news

میرے ایک دوست ہیں‘ ایڈیشنل سیکریٹری ہیں‘ میری ان سے اکثر ملاقات رہتی ہے‘ میں انھیں پچھلے دو برسوں سے ’’بے کار‘‘ دیکھ رہا ہوں‘ یہ لنچ اور ڈنر کلب میں کرتے ہیں‘ شام کسی کافی شاپ میں گزارتے ہیں‘ روز جاگنگ کرتے ہیں‘ کتابیں پڑھتے اوردوستوں کے ساتھ دل کھول کر گپیں لگاتے ہیں۔

فیملی‘ رشتے داروں اور دوستوں کو ہر وقت دستیاب رہتے ہیں‘ آپ کسی وقت فون کریں یہ سارا دن آپ کے ساتھ گزار دیں گے‘ میں نے چند دن قبل ان سے پوچھا ’’آپ اتنے فارغ کیوں ہیں‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’کام تو کرتا ہوں‘ میں روز دفتر جاتا ہوں‘‘ میں نے کہا ’’لیکن مجھے یاد ہے آج سے تین ساڑھے تین سال قبل آپ کے پاس سر میں خارش کا وقت بھی نہیں ہوتا تھا‘ آپ دن رات مصروف رہتے تھے لیکن اب محسوس ہوتا ہے آپ مکمل فارغ ہیں‘ آپ کو دنیا میں کوئی کام نہیں‘‘۔

یہ ہنسے‘ تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر سنجیدہ ہو کر بولے ’’صرف میں نہیں ملک کی پوری بیوروکریسی اس وقت فارغ بیٹھی ہے‘ کوئی سرکاری افسر کام نہیں کر رہا‘ آپ دیکھ لیں کیا ملک میں تین برسوں میں کوئی منصوبہ شروع ہوا؟ بیوروکریسی کورونا ویکسین کے کاغذات تک پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں‘ چین سے  ویکسین لانے کا بندوبست بھی عسکری ادارے کر رہے ہیں‘ این سی او سی بھی فوج نے بنایا اور فوج ہی اب کورونا ایس او پیز پر عمل کروا رہی ہے‘ حکومت کو بجٹ تیار کرنے کے لیے بھی افسر نہیں ملتے‘ تین برسوں میں چار وزیر خزانہ کیوں آئے؟

کیوںکہ بیوروکریسی کام نہیں کر رہی‘ آپ دیکھ لیجیے گا شوکت ترین بھی صرف ایک بجٹ ہی نکال پائیں گے‘ چینی‘ آٹا‘پٹرول اور گیس کا بحران کیوں پیدا ہوا؟ اس کی ذمے دار بھی بیوروکریسی ہے‘ یہ کام نہیں کر رہی‘‘ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے ان سے پوچھا ’’اور بیوروکریسی کیوں کام نہیں کر رہی‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’دو لوگوں کی وجہ سے‘ احد چیمہ اور کامران لاشاری‘ یہ دونوں ہمارے آئیڈیل تھے‘ کامران لاشاری جہاں گئے یہ وہاں اپنا نقش چھوڑ کر آئے اور احد چیمہ نے کمال کر دیا۔

اس نے دن دیکھا اور نہ رات‘ میٹرو تھی تو اس نے چلا دی اور بجلی تھی تو اس نے آن کر دی‘ آج اگر ملک میں لوڈ شیڈنگ نہیں تو یہ کس کا کمال ہے! احد چیمہ کا‘ یہ اگر کام نہ کرتا تو آج پاور پلانٹس کی ادھوری سائیڈز پر بھی آوارہ کتے گھوم رہے ہوتے اور اورنج لائن ٹرین کی طرح میٹرو کی بسوں کو بھی چوہے کتر رہے ہوتے مگر اس شخص نے اپنے خاندان کا وقت بھی اپنی سروس کو دے دیا لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ تین سال جیل‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں بھی خاموشی سے سنتا رہا۔

وہ بولا ’’ہم جیل کو بھی امر ربی سمجھ لیتے ہیں لیکن ان تین برسوں میں چیمہ اورچیمہ فیملی کے ساتھ جو ہوا کیا کوئی اسے جسٹی فائی کر سکتا ہے‘ وہ سرکار جس کے لیے اس نے اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا تھا اس نے گرفتاری کے بعد اس کی تنخواہ تک بند کر دی‘ احد چیمہ نے پانچ سو ارب روپے کے منصوبے مکمل کیے تھے‘ ریاست کو دو سو ارب روپے بچا کر بھی دیے تھے لیکن یہ جب گرفتار ہوا تو حکومت نے اسے وکیل تک نہیں دیا چناں چہ وکیلوں کی فیسیں ہوں‘ اسپتالوں کے دھکے ہوں یا گھر بار کا خرچ ہو یہ سب اس شخص کو خود برداشت کرنا پڑا۔

پراجیکٹس حکومت کے‘ کام سرکار کے اورسزا افسر کو‘ یہ 13 اپریل2021ء کو تین سال کی قید کے بعد باہر آیا مگر حکومت نے اب بھی اس کی تنخواہ بحال نہیں کی‘ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے اس کی بیوی کو عدالتوں کے بنچوں پر بیٹھے دیکھا‘ وہ بچوں کویہ بتاتی رہی ’’ پاپا کا اسلام آباد تبادلہ ہو گیا ہے‘‘ یہ علاج کے لیے اسپتال آتا تھا تو بیوی بچوں کو ملاقات کے لیے لے کر آ جاتی تھی‘ بچے پوچھتے تھے آپ گھر کیوں نہیں آتے تو دونوں میاں بیوی انھیں باتوں میں ٹرخا دیتے تھے۔

بچے ایک دو بار جیل بھی آئے تو اس نے انھیں بتایا میں آج کل یہاں پوسٹ ہوں اور یہ جب رات کے وقت سیل میں بند ہو جاتا تھا‘ دروازہ بند کر دیا جاتا تھا‘ یہ آٹھ بائی چھ کے سیل میں لیٹتا تھا اور بجلی بند ہو جاتی تھی تو یہ خود کو قبر میں محسوس کرتاتھا‘ تنہا‘ بے رونق اور خاموش اور اس لمحے اس کو اپنی حماقتوں کا احساس ہوتا تھا اور یہ کہتا تھا‘ مجھے بھی چاہیے تھا میں بھی اپنے کولیگز کی طرح پوزیشنز انجوائے کرتا‘ فائلیں اِدھر سے اُدھر کرتا رہتا‘ سفارش اور خوشامد کے ذریعے فیلڈ پوسٹنگ لیتا‘ کھاتا پیتا اور ہنستا کھیلتا‘ حکومت میں جب کام نہ کرنے کی کوئی سزا نہیں اور کام کرنا اور ڈیلیور کرنا خطرناک ہے تو پھر مجھے پنگے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘

وہ رکا‘ لمبا سانس لیااور بولا ’’نیب نے صاف پانی کے اسکینڈل میں کے ایس بی (KSB) کاایم ڈی مسعود اختر بھی گرفتار کیا تھا‘ یہ احد چیمہ کے ساتھ دوسرے سیل میں تھا‘ کمپنی نے جرمن حکومت سے رابطہ کیا‘ حکومت نے پاکستان میں جرمن سفیر کو کہا‘ سفیر حکومت اور ریاست سے ملا اور اس کی ضمانت ہو گئی‘ یہ گھر چلا گیا‘ مسعود اختر کے وکلاء کی تمام فیسیں کمپنی نے ادا کی تھیں‘ کمپنی مقدمے کے دوران اسے ڈبل تنخواہ بھی دیتی رہی۔

اس نے سفیر کے ذریعے اسے رہا بھی کرایااور رہائی کے بعد اسے دو سال کی تنخواہ کے برابر بونس بھی دیا اور یہ کون تھا یہ سرکار کے بہت بڑے پراجیکٹ کا ایک چھوٹا سا وینڈر تھا جب کہ دوسری طرف سرکار نے اپنے اسٹار افسر کو جیل اور عدالتوں کے رحم و کرم پر بھی چھوڑ دیا‘ اس کی تنخواہ بھی روک دی اور اس کے بچوں سے اس کی جائز مراعات بھی واپس لے لیں لہٰذا آپ بتائو اس مثال کے بعد کے ایس بی کے ملازم کام کریں گے یا پھر بیوروکریٹس؟ اور یہ وہ مثال ہے جس کو دیکھ کر آج بیوروکریٹس کام نہیں کر رہے‘ یہ کہتے ہیں کام نہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ سزا کیا ہے؟

ٹرانسفر یا او ایس ڈی‘ حکومت بے شک یہ سزا دے دے لیکن کام کرنے کی سزا سیدھی سادی جیل ہے اور ہم یہ بھگتنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘‘ وہ رکا اور ہنس کر بولا ’’اس وجہ سے اس حکومت میں ریکارڈ تبادلے ہوئے ہیں‘ افسر مہینے مہینے بعد بدل جاتے ہیں اور افسروں کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی‘ حکومت کو آئی جی اور سیکریٹری تک نہیں مل رہے‘ محکمے اور کارپوریشنز خالی پڑی ہیں اور یہ خالی پڑی رہیں گی‘ کیوں؟

کیوں کہ کوئی سرکاری افسر کام کرنے کے لیے تیار نہیں‘‘ وہ رکا‘ لمباسانس لیا اور بولا ’’ آپ کو پتا ہے نیب کے ریفرنس بھی کیوں فائنل نہیں ہوتے؟ کیوںکہ اب نیب کے افسر بھی کام نہیں کر رہے‘ یہ بھی جان گئے ہیں ہمارے کیس کرپشن کے نہیں سیاسی ہیں چناں چہ یہ دل سے مقدمہ بناتے ہیں اور نہ ہی چلاتے ہیں اور یوں ملزم چھوٹ جاتے ہیں۔‘‘

میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ نے پنجاب میں کام کیا‘‘ اس نے جواب دیا ’’ہاں مجھے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا‘‘ میں نے پوچھا ’’یہ ڈیلیور کیوں نہیں کر پا رہے؟‘‘ یہ ہنس کر بولا ’’بزدار بھی بیوروکریسی جیسے المیے کا شکار ہیں‘ یہ بھی ایڈہاک ہیں‘ یہ روز رات سوتے وقت سوچتے ہیں پتا نہیں میں صبح وزیراعلیٰ ہوں گایا نہیں؟ وزیراعظم جب بھی لاہور آنے کا اعلان کرتے ہیں تو وزیراعلیٰ اور وزراء کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں۔

وزیراعظم جب بھی وزیر اعلیٰ یا کسی صوبائی وزیر کو بلاتے ہیں تو وہ اپنا بیگ گھر بھجوا دیتا ہے‘ وزیراعظم جب لاہور جا کر چیف سیکریٹری اور آئی جی سے پوچھیں گے مجھے بتائو بزدار فیملی نے کہاں کہاں کرپشن کی تو چیف سیکریٹری اور آئی جی وزیراعلیٰ کی عزت کیوں کریں گے؟

وزراء بھی وزیراعلیٰ کو جواب دینے کے بجائے وزیراعظم کو جواب دہ ہوتے ہیں‘ وفاقی حکومت نے تین برسوں میں پنجاب میں پانچ آئی جی اورتین چیف سیکریٹری لگائے‘ ان میں سے کسی ایک کی تعیناتی سے پہلے وزیراعلیٰ سے نہیں پوچھا گیا‘ جہانگیرترین کے گروپ کو بھی بنی گالا اور وزیراعظم آفس سے ڈیل کیا جارہا ہے چناں چہ جب اتنی بے یقینی ہو گی۔

جب وزیراعلیٰ اور وزراء یہ نہیں جانتے ہوں گے میں کل ہوں یا نہیں تو پھر کام کون کرے گا اور کیسے کرے گا؟ وزیراعظم یہاں وزیرخزانہ لے کر آتے ہیں‘ ان کی دل کھول کر تعریف کرتے ہیں اور جب اسے فارغ کرتے ہیں تو اس سے آخری ملاقات بھی نہیں کرتے‘ یہ ان سفیروں کو جو دنیا بھر میں پاکستان کے نمایندہ ہیں یہ ان کی آن لائین بے عزتی کرتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھاتے ہیں۔

آپ دنیا کے 249 ملکوں میں سے کوئی ایک ایسی مثال نکال کر دکھا دیں چناں چہ پاکستان کے اس وقت تین ایشوز ہیں‘ کام کرنے والے جیل چلے جاتے ہیں اور ان کے محکمے اور حکومت انھیں ڈس اون کر دیتی ہے‘ پورا ملک اسٹیٹ آف کنفیوژن میں ہے‘ کس نے کیا کرنا ہے کسی کو پتا نہیں اور صدر سے لے کر چپڑاسی تک تمام لوگ بے یقینی کا شکار ہیں لہٰذا پھر یہ ملک کیسے چلے گا؟‘‘ وہ خاموش ہوا اور میری طرف دیکھنے لگا اور میں بھی خاموشی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

Comments are closed.