نئے ڈیموں کی تعمیر میں واپڈا کی سنگین بے قاعدگیاں ۔ پاکستانی عوام کو بجلی 50 روپے فی یونٹ میں پڑے گی ۔وزیراعظم اور عدلیہ کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے ۔چونکا دینے والے انکشافات

Jeevey Pakistan


پاکستان میں نئے ڈیموں کی تعمیر کے جاری کاموں میں واپڈا اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے مروجہ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ،بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان اور محب وطن شخصیات کی جانب سے اعلی متعلقہ فورمز سمیت وزیراعظم آفس اور دیگر طاقتور شخصیات سے رابطہ کرکے ان کی توجہ اس اہم قومی مسئلے کی جانب مبذول کرائی گئی ہے اور نشاندہی کی گئی ہے کہ سنگین بے قائدگیاں اور بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں ان کے نتیجے میں پاکستانی عوام اور آنے والی نسلوں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑے گا ان ڈیموں کی تعمیر پر آنے والے اخراجات اور ان کے لیے دیے گئے ٹھیکےانتہائی مضر اثرات مرتب کریں گے جس طریقے سے من مانی کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں وہ ظاہر کرتا ہے کہ چند افراد اپنے وقتی اور ذاتی مفاد کی خاطر قومی مفادات کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ عدلیہ اور وزیراعظم کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے بڑے بڑے فیصلے اور ان ٹھیک کو ایوارڈ کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے مفروضے پر مبنی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے مطلوبہ نتائج کے حصول کا خواب دیکھ لیا گیا ہے اور پوری قوم کو ایک سہانے خواب دکھانے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے چند افراد نے اپنی جیبیں بھرنے اور طاقتور شخصیات کو اپنا ہمنوا بنا رکھا ہے دنیا بھر میں پانی سے بنائی جانے والی بجلی سب سے سستی ہوتی ہے لیکن پاکستان میں ان ڈیموں کی تعمیر اور لاگت پر جو اخراجات آرہے ہیں جس طرح 39 ارب کا منصوبہ 500 ارب تک پہنچ جاتا ہے اس کو دیکھتے ہوئے باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پانی سے حاصل ہونے والی بجلی بھی پاکستانی عوام کے لئے انتہائی مہنگی ثابت ہوگی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اچھا ہے کہ اگر یہ ڈیم اسی طرح غلط طریقوں سے دیے گئے تھے کو کے نتیجہ میں بنانے کا کام جاری رکھا گیا اور معاملات کو درست نہ کیا گیا من پسند افراد کے مفاد کو عزیز رکھتے ہوئے ان کی مرضی کی کمپنیوں کو بغیر پیپرا قوانین پر عمل کیے بڑے بڑے ٹھیکے دیے گئے تو ان پر جاری کام وقت کی طوالت کی وجہ سے لاگت میں اضافے کا باعث بنے گا اور پاکستانیوں کو یہ بجلی 45 روپے سے لے کر 55 روپے تک فی یونٹ میں پڑے گی یہ ایک بہت بڑا دھوکا ہوگا پوری قوم کے ساتھ بہت بڑا ظلم اور ناانصافی ہوگی قومی خزانے پر بہت بڑا ڈاکہ ثابت ہوگا آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی یہی وقت ہے کہ معاملات کا فوری طور پر باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے قومی ذمہ داریوں کے تقاضے کے مطابق فیصلے کیے جائیں چند افراد کی من مانی اور ان کے کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے ملکی قوانین اور قواعد و ضوابط پر

عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے قواعد و ضوابط کے برعکس دیے گئے ٹھیکے چاہے وہ ملکی اور غیر ملکی کنسورشیم اور کمپنیوں پر مشتمل ہوں ان سے تمام قانونی شرائط پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے جو کمپنیاں ان شرائط کو الیفکیشن کی بنیادوں پر پوری نہیں اترتی ان کو بلیک لسٹ ہونا چاہیے اور اگر وہ پہلے سے بلیک لسٹ تھی تو پھر معلوم کرنا چاہیے کہ انہیں یہ کونٹریکٹ ایوارڈ کرانے میں کس کس نے کیا کیا کردار ادا کیا ۔قوم کے ساتھ دھوکہ کرنے والے عناصر کا محاسبہ ہونا چاہیے ان کا کڑا احتساب اس وقت قومی احتساب بیورو کی ڈیوٹی ہے ۔پوری قوم ایک جاننا چاہتی ہے یہ ہر شخص کا قومی حق ہے کہ اسے مستقبل کے اہم ترین فیصلوں کے بارے میں حقائق بتائے جائیں سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد پاکستان میں نئے ڈیموں کی تعمیر کے لئے خصوصی فنڈ قائم کیا گیا تھا جس میں پوری قوم کو حصہ ڈالنے کی اپیل کی گئی تھی حکومت نے اس سلسلے میں اپنا کردار نبھایا 22 کروڑ پاکستانیوں نے نئے ڈیموں کی تعمیر کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں رقم دی بڑے پیمانے پر رقم جمع ہوئی موبائل فون کمپنیوں کے ذریعے بھی فنڈ جمع ہوا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لیے بہت سے فنڈز درکار ہیں پاکستانی قوم پر عزم ہے کہ وہ مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے نئے ڈیموں کو تعمیر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی بین الاقوامی ادارے اور مختلف غیر ملکی کمپنیوں نے ان ناموں کی تعمیر کے سلسلے میں اپنی خدمات فراہم کی ہیں لیکن جس انداز میں کونٹیکٹ ایوارڈ کیے جا رہے ہیں ان پر ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی ہے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں سوالات پوچھے جا رہے ہیں پاکستان کے اعلیٰ حکام – چیئرمین واپڈا سے لے کر اعلیٰ حکومتی میٹنگ میں شامل ہونے والے طاقتور لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب دیں ماہرین کے اعتراضات کو سنا جائے اور ان کے جواب دیے جائیں قوم کو بتایا جائے کہ اصل سچ کیا ہے سچائی کو چھپانے کی کوشش کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائے اور عوام کو دھوکا دینے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ۔اگر شفافیت کو برقرار رکھنے کے اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے تو نئے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے ہونے والے اخراجات اور لگتی تخمینے جو بتائے جارہے ہیں ان کے حوالے سے قوم کا اعتبار اٹھ جائے گا اگر یہ منصوبے عوام کے وسیع تر مفاد میں بنائے جارہے ہیں تو سچ جاننا عوام کا پہلا حق ہے ۔( جاری ہے )۔۔۔۔۔

رپورٹ سالک مجید ۔۔۔۔

Comments are closed.