نئے ڈیموں کی تعمیر میں بے ضابطگیاں ۔اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصانات پہنچائے جانے کا انکشاف

Jeevey Pakistan

قسط نمبر 3
———————
———————


ملک میں نئے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے بے ضابطگیوں کے انکشاف پر متعلقہ حلقوں میں زبردست بحث جاری ہے واپڈا اور اس کے دیگر متعلقہ ادارے اور سرگرم شخصیات معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچائے جانے کا معاملہ آزادانہ اور خود مختار اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا متقاضی ہے مروجہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور بے قاعدگیاں مختلف کانٹریکٹ ایوارڈز کے جانے کے عمل کو مشکوک بنا چکی ہیں اور ان پر متعدد سوالات کھڑے ہو چکے ہیں اس لیے ماہرین مطالبہ کر رہے ہیں کی سچائی کو قوم کے سامنے لایا جائے ۔میڈیا میں بھی یہ بحث تیز ہوتی جا رہی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان میں اپنی رپورٹ میں داسو ڈیم مہمند ڈیم نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں بڑے پیمانے پر زمین بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے جیو نیوز اخبار کی ایک رپورٹ میں منسٹری آف واٹر ریسورسز اور اس کے متعلقہ اداروں کے حوالے سے سال 2018 اور سال 2019 کی جو رپورٹ آئی جی پی آفس سے سامنے آئی ہے اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واپڈا نے ورلڈ بینک کی فنڈنگ  سے شروع ہونے والے داسو ڈیم کے اسٹیج ون ہائیڈرو پاور پلانٹ پر پروکیورمنٹ کے لئے وینڈر سے ڈیل فائنل کرنے پر دستخط کرنے میں پندرہ مہینے کا وقت ضائع کیا ۔قیمتی وقت ضائع کئے جانے سے اس پروجیکٹ پر آنے والی لاگت کے تخمینے میں اضافہ ہوگا اور قومی خزانے کو مزید نقصان برداشت کرنا پڑے گا رپورٹ کے مطابق تین ملین ڈالر یومیہ ریونیو کی مد میں نقصان برداشت کرنا پڑے گا اور تھرمل پاور پروڈکشن کی مدنی پھول ان پورٹ کرنے سے یومیہ دو ملین ڈالر کا نقصان الگ ۔۔۔۔۔کس طرح اے جی پی ایس سپورٹ کے مطابق 466 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ورلڈ بینک نے جو ڈیڈلائن مقرر کی تھی اس کی خلاف ورزی کی گئی اور الیکٹرو مکینیکل ورکس کی پروکیورمنٹ کا کانٹیکٹ منظور کرنے کا لیٹر دو مہینے کی تحقیر سے 22 اکتوبر 2019 کو جاری کیا گیا ۔جبکہ ورلڈ نے اعتراض اٹھایا کہ کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے میں واپڈا کی ناکامی کی وجہ سے پندرہ مہینے کی تاخیر کی گئی کیونکہ اس نے اویلیویشن رپورٹ جلدی تیار نہیں کی ۔

مذکورہ رپورٹ میں دی نیوز کے رپورٹر نے میسرز سی جی جی سی ۔ڈیسکون جےوی کے حوالے سے کئے گئے فیصلوں پر بھی بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ کس طرح پی سی ون میں لگائے گئے 163,680 ملین روپے کے اندازے کے برعکس فائنل بڈ پرائس 201,523 ملین روپے رکھی گئی ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اور آڈٹ کرنے والوں کو اعتراض ہے کہ اتنا بڑا پروجیکٹ درحقیقت انٹرنیشنل مقابلے کی بڈنگ میں دیا جانا چاہیے تھا ۔تاکہ بین الاقوامی تجربے کی حامل انٹرنیشنل فرمز اس میں اپنے تجربے کی بنیاد پر حصہ لے سکتیں۔

دوسری جانب 30 مارچ 2021 ایک سینئر صحافی اور اینکر سید ایم حسین گردیزی نے بھی یہ معاملہ اٹھایا اور وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط لکھا جس میں دیا میر بھاشا ڈیم کے حوالے سے کئے گئے فیصلوں کا آنے والی نسلوں پر امپیکٹ کا معاملہ اٹھایا اور اپنے خط میں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ کے کردار پر بحث کی اور نیپرا کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور لکھا کہ کس طرح سال 2047 تک این ٹی ڈی سی نے اپنی ترجیحات طے کی ہیں اور کس طرح اس پر اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور واپڈا نے اس طرح این ٹی ڈی سی کو دباؤ میں لے رکھا ہے ۔خط میں یہ بحث بھی کی گئی ہے کہ این ٹی ڈی سی کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی کے دیامیر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کو سال 2027 سے پہلے پاور جنریشن کے پلان میں شامل کیا جائے یعنی آج سے صرف چھ سال کے اندر ۔۔۔۔۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اتنا بڑا پروجیکٹ کتنے عرصے میں مکمل ہونا ممکن نہیں اور اس کی وجوہات کیا ہیں اس حوالے سے خط میں تفصیلی بحث کی گئی ہے ۔
دوسری جانب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے بھی اس معاملے کو ٹیک اپ کر لیا ہے ۔۔۔۔۔

)(جاری ہے )
رپورٹ سالک مجید
——————

Comments are closed.