اسلام آباد ہائیکورٹ، چینی10 دن70 روپے کلو بیچنے کا حکم، شوگر کمیشن رپورٹ پر عمل معطل

Jung

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلام آباد ہائیکورٹ نےشوگر کمیشن رپورٹ پر عمل معطل کرتے ہوئے 10دن تک عوام کو چینی 70 روپے کلو بیچنے کا حکم دیا ہے، دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر کمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا تو پھر کیا کیا؟

حکومت سے پوچھیں گے کہ انکوائری کمیشن نے عوامی مفاد کے بنیادی سوال کا جواب ہی تلاش نہیں کیا ، یہاں ہر جگہ مافیا ہے ، پٹرول کی قیمت کم ہوئی تو پٹرول غائب ہوگیا، جمعرات کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواست کی سماعت کی۔

اس موقع پر درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکلاءمخدوم علی خان ، سلمان اکرم راجہ سعد محمد ہاشمی اور سکندر بشیر مہمند عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ شوگر انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں نہ صرف بغیر ثبوت نتائج اخذ کئے بلکہ ایف بی آر ، ایف آئی اے ، نیب ، اسٹیک بنک سمیت دیگر اداروں اور محکموں کو کارروائی کی سفارش کی اور فوجداری مقادمات بنانے کا بھی کہا۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ انکوائری کا مقصد چینی کی قیمت میں اضافہ کی تحقیقات کرنا تھا مگر کمیشن نے اس پہلو کو نظرانداز کر دیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ چینی عام آدمی کی ضرورت ہے ، حکومت کو بھی اس حوالے سے ہی اقدامات اٹھانے چاہئیں ، 2018ءمیں چینی کی قیمت 53 روپے تھی آج 85 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

Comments are closed.